Ad Code

Responsive Advertisement

غازی علم دین شہید رحمۃ اللہ علیہ

 غازی علم دین شہید رحمۃ اللہ علیہ


مسلمانوں کی سب سے گراں قدر ہستی اور تمام مسلمانوں کی متاع حیات محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہے ۔ الله تبارک تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ "مومن وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنی جان و مال، اولاد اور والدین سے زیادہ عزیز سمجھتا ہو ۔ اسی لیے حرمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ناموس رسالت کےلیے اپنی جان کا نذرانہ دینے کی خوہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے مگر اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پھنچانا کسی سعادت مند کے نصیب میں ہوتا ہے ۔


شھداء ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خوش قسمت افراد میں ایک نام ’’غازی علم دین شہید ‘‘ کا بھی ہے جنہوں نے گستاخِ رسول کو جہنم رسید کر کے وہ کارنامہ انجام دیا جس پر رہتی دنیا کے مسلمان اْن پر نازکرتے رہیں گے ۔ علامہ اقبال کو جب معلوم ہوا کہ ایک اکیس سالہ اَن پڑھ‘ مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخِ رسول راجپال کو جرت وبہادری کے ساتھ قتل کردیا ہے تو انہوں نے کہا تھا : اَسی گَلاں اِی کردے رہ گئے تے تَرکھاناں دَا مْنڈا بازی لے گیا ۔ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا) ۔


علم الدین کو جب معلوم پڑا کہ راجپال نے نبی کی شان میں گستاخی کی ہے تو انہیں رہا نہیں گیااپنے والد سے اس کمینے کا ذکر کیااور بے چینی کے عالم میں سوگئے۔اْس رات انہیں خواب میں ایک بزرگ ملے، انہوں نے کہا: ’’تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی ہورہی ہے اور تم ابھی تک سورہے ہو! اٹھو جلدی کرو۔‘‘ علم دین ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے شیدے (ان کے دوست) کے گھر پہنچے۔ پتا چلا کہ شیدے کو بھی ویسا ہی خواب نظرآیا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے کو کہا۔ دونوں میں یہ بحث چلتی رہی کہ کون یہ کام کرے، کیونکہ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے دونوں نے فیصلہ کیا۔ تین مرتبہ علم دین کے نام کی پرچی نکلی تو شیدے کو ہار ماننی پڑی۔ علم دین ہی شاتمِ رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔اور پھر موقع پاکر پلک جھپکتے میں چھری نکالی، ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور راجپال کے جگر پر جالگا۔ چھری کا پھل سینے میں اترچکا تھا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جاپڑا۔ علم دین الٹے قدموں باہر دوڑے۔ راجپال کے ملازمین نے باہر نکل کر شور مچایا: پکڑو پکڑو۔ مارگیا مارگیا۔ علم دین کے گھر والوں کو علم ہوا تو وہ حیران ضرور ہوئے لیکن انہیں پتا چل گیا کہ ان کے نورِچشم نے کیا زبردست کارنامہ سرانجام دیا ہے اور ان کا سر فخرسے بلندکردیا ہے۔ اس قتل کی سزا کے طور پر 7 جولائی 1929ء4 کو غازی علم دین کو سزائے موت سنادی گئی جس پر 31 اکتوبر1929 ء 4 کو عمل درآمد ہوا ۔ ان کے جسدِ خاکی کو مثالی اور غیرمعمولی اعزاز واکرام کے ساتھ میانی صاحب قبرستان لاہور میں سپردِ خاک کردیا گیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ میں ان کا نام ناموس رسالت پرکٹ مرنے کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔


عشق رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سچے اور پکے مومن اور مسلمان کی معراج ،پہچان اور نشانی ہے۔ غازی علم دین شہید کا شمار بھی ان ہی عاشقان رسول میں ہوتا ہے۔غازی علم دین شہید نے ناموس رسالت پر اپنی جان قربان کرکے خود کو ہمیشہ کے لیے امرکردیا۔اس عظیم عاشق رسول غازی علم دین شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے امت مسلمہ ہرسال ان کی یاد میںشمعیں روشن کرتی ہے۔ غازی علم الدین شہید ؒ کا جرات مندانہ کردار آج تک مسلمانوں میں زندہ ہے۔ملک بھر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے قرآن خوانی ،سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گستاخ کی سزا سر تن سے جدا اسلام کا بنیادی دستور وقانون ہے۔جس پر تمام مسلمان ہر لحاظ سے متفق اور اس کوتسلیم بھی کرتے ہیں ۔


علم دین 4 دسمبر 1908 ء میںکوچہ چابک سوارں لاہور میںطالع مند کے گھر پیدا ہونے والا ایک عاشق رسول تھا۔ طالع مند لکڑی کے بہت اچھے کاریگر تھے ۔علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کے ایک مدرسہ سے حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے آبائی پیشہ کو ہی اختیار کیا اور اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد امین کے ساتھ ہی کام کرنا شروع کر دیا۔علم دین کے والد فرنیچر بنانے کے ہنرمند کاریگر تھے وہ اکثرشہر سے باہر جب بھی کام کے سلسلہ میں جاتے توعلم دین ان کے ساتھ جاتا تھا۔علم دین کا ایک بھائی پڑھ لکھ کر ایک سرکاری نوکری کرنے لگاجبکہ ایک بھائی محمد امین والد اور بھائی علم دین کے ساتھ کام کرتا رہا۔تقسیم ہند سے پہلے ہونے والے ایک واقعہ نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں ہلچل مچاکر رکھ دی تھی ۔ (چشتی)


1923 ء میں لاہور کے ایک ناشر راج پال انتہا پسند ہندو نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں ایک گستاخانہ کتاب ایک فرضی نام سے لکھی ۔ کتاب میں انتہائی نازیبا باتیں لکھی تھیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ کتاب کے شائع ہونے سے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سے اس دل آزار کتاب پر فوری پابندی لگانے اور ناشر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جس پر اس ناشر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ سیشن کورٹ کے مجسٹریٹ نے راج پال کو مجرم قرار دیتے ہوئے صرف چھ ماہ قید کی سزا سنادی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل کی گئی ۔ کیس کی سماعت میں مجرم راجپال کو جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے رہا کردیا کہ اس وقت مذہب کے خلاف گستاخی کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔جس پر مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا۔ انگریز حکومت کی عدم توجہی پر مایوس ہوکر مسلمانوں نے احتجاجی جلسے جلوس نکالنے شروع کر دئیے۔مسلمانوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی تحریک شروع کردی۔مگر انگریز حکومت نے روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرکے الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا۔ مسلمانوں میں یہ احساس بیدار ہونے لگا کہ حکومت وقت ملعون ناشر کو بچانے کی کوشش میںہے اور یہ کہ اس ملعون کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ان کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا ۔ سب سے پہلے لاہور کے ایک غازی خدابخش نے 24 ستمبر 1928ء کو اس گستاخ راج پال کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا تاہم یہ بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ۔ غازی خدابخش کو گرفتاری کے بعد 7 سال کی سزاسنائی گئی۔اس کے بعد افغانستان کے ایک غازی عبدالعزیز نے لاہور آکر اس شاتم رسول کی دکان کا رخ کیا مگر یہ بدبخت دکان میں موجود نہیں تھا، اس کی جگہ اس کا دوست سوامی ستیانند موجود تھا۔ غازی عبدالعزیز نے غلط فہمی میں اس کو راج پال سمجھ کر اس پر حملہ کر کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا۔ غازی عبدالعزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی۔ راج پال ان حملوں کے بعد بہت خوفزدہ ہوگیا ۔ حکومت نے اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار کو اس کی حفاظت پر متعین کردیا۔ راج پال کچھ عرصے کے لئے لاہور چھوڑ کر کاشی، ہردوار اور متھرا چلا گیا مگر چند ماہ بعد ہی واپس آگیا اور دوبارہ اپنا کاروبار شروع کردیا۔ علم دین کی غیرت ایمانی نے یہ گوارا نا کیا کہ یہ ملعون اتنی آسانی سے بچ نکلے بالاآخر اس کو اس کے آخری انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کرلیا ۔ علم دین اپنے ایک قریبی دوست رشید کے ساتھ لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان کے سامنے احتجاج میں شامل تھا جو ہندو راجپال کے خلاف نعرے لگارہا تھا۔ جذبات کا ایک سمندر اس ہجوم کے نعروں کی گونج میں امنڈ رہا تھا۔ امام مسجد نے انتہائی درد بھری آواز میں کہا۔ ’’مسلمانوں شیطان راج پال نے اپنی کتاب میں ہمارے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے اور عدالتوں نے اسے رہا کردیا ہے جس سے اسلام دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ امام مسجد کے یہ الفاظ غازی علم دین کے دل میں اتر گئے اور اس نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ وہ گستاخ رسول کو واصل جہنم کرکے ہی دم لے گا ۔ اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے دوست رشید سے کیاوہ بھی گستاخ راج پال کو مزا چکھانا چاہتا تھا۔ دونوں نے اس مسئلے پر تین بار قرعہ اندازی کی اور تینوں بار علم دین کا نام آیا، آخرکار رشیدعلم دین کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ اللہ پاک نے یہ سعادت شائد علم دین کے ہی نصیب میں لکھ رکھی تھی ۔ (چشتی)


6 اپریل 1929ء کو علم دین بازار سے ایک چھری لے کر راجپال کی دکان کی طرف چل پڑا۔ راج پا ل ابھی دکان پر نہیں آیا تھا۔ علم دین نے اس کا انتظار کیا اور جیسے ہی راجپال اپنی دکان میں داخل ہوا علم دین نے چھری سے اس پر زوردر وار کیا جو اس کے دل میں پیوست ہوگیا۔راج پال موقع پر ہی ڈھیر ہوگیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرکے اس پر قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ علامہ اقبال کی درخواست پر قائداعظم محمد علی جناح نے علم دین کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ قائداعظم نے ایک موقع پر علم دین سے کہا کہ وہ جرم کا اقرار نہ کرے۔ غازی علم دین نے کہاکہ میں یہ کیسے کہہ دوں کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا،مجھے اس قتل پر ندامت نہیں بلکہ فخر ہے، عدالت نے علم دین کو سزائے موت سنادی۔ قائداعظم محمد علی جناح لبرل تصور کئے جاتے تھے اور اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے، ہندو اخبارات نے ان پر کڑی تنقید کی لیکن قائداعظم نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ’’مسلمانوں کیلئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذات مبارکہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔‘‘31 اکتوبر 1929ء غازی علم دین شہید کی سزائے موت پر عملدرآمد کا دن تھا ۔


سزائے موت سے قبل علم دین سے آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ غازی علم دین کو جب پھانسی گھاٹ پر لایا گیا اور جب پھندا ان کی گردن میں ڈالا گیا تو اس نے وہاں موجود لوگوں سے کہا ’’اے لوگو! گواہ رہنا میں نے راج پال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی کرنے پر جہنم واصل کیا ہے، آج میں آپ سب کے سامنے کلمہ طیبہ کا ورد کرکے حرمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر اپنی جان نچھاور کررہا ہوں۔‘‘غازی علم دین نے اپنے رشتہ داروں کو جو وصیت فرمائی وہ قابل غور ہے۔ میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰت برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر قائم رہیں ۔


غازی علم دین شہید کو پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے ان کی میت بغیر نماز جنازہ جیل کے قبرستان میں دفنادی جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور 4 نومبر 1929 ء کو مسلمان رہنماؤں کے ایک وفد(جن میں سر فہرست شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ، سر محمد شفیع، مولانا عبدالعزیز، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، خلیفہ شجاع،میاں امیر الدین،مولانا غلام محی الدین قصوری صاحبان شامل تھے) نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور جسد خاکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ گورنر نے شرط عائد کی کہ اگر مذکورہ رہنما پرامن تدفین کی ذمہ داری اور کسی گڑبڑ کے نہ ہونے کی یقین دہانی کرائیں تو جسد خاکی مسلمانوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے ۔ مذکورہ وفد نے یہ شرط منظور کرلی ۔


13 نومبر 1929 ء کومسلمانوں کا ایک وفد سید مراتب علی شاہ اور مجسٹریٹ مرزا مہدی حسن کی قیادت میں میانوالی روانہ ہوا اور دوسرے روز جسد خاکی وصول کر لیا گیا۔15 دن بعد جب غازی علم دین شہید کی میت کو قبرسے نکالا گیا تو ان کا جسد خاکی پہلے دن کی طرح تروتازہ تھا۔ جسد خاکی بالکل صحیح وسالم اور اس میں سے خوشبو آرہی تھیں، چہرہ حسن و جمال کا حسین امتزاج تھا، اور ہونٹوں پر مسکراہٹ جھلک رہی تھی ۔


علم دین شہید کے والد طالع مند نے علامہ اقبال سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی جس پر علامہ اقبال نے کہا کہ وہ بہت گناہ گار انسان ہیں، اس لئے اتنے بڑے شہید کی نماز جنازہ وہ نہیں پڑھاسکتے۔نماز جنازہ قاری شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی۔‘‘غازی علم دین شہید کی نماز جنازہ لاہور کی تاریخ کی سب سے بڑی نماز جنازہ تھی جس میں6 لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی تھی۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ سچے عاشق رسول غازی علم دین شہیدکے جنازے کو کندھا دے پائے ۔ لاہور میں میانی صاحب قبرستان میں آپ کی آخری آرام گاہ موجود ہے ۔ بغیر چھت مزار کے چہار وں اطراف برآمدہ ہے، مزار کے ساتھ ہی غازی علم دین شہیدکے والد محترم اور والدہ محترمہ کی بھی آخری آرام گاہیں موجود ہیں ۔ لوح مزار پر پنجابی اور اردو کے کئی اشعار کندہ ہیں ۔


علامہ اقبال نے غازی علم دین شہید کی میت کو کندھا دیا اور اپنے ہاتھوں سے انہیں قبر میں اتارا۔ اس موقع پر علامہ اقبال کی آنکھیں نم ہوگئیں انہوں نے کہا۔ کہ ’’ایک ترکھان کا بیٹا آج ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔‘‘ علم دین شہید کی پھانسی کے بعد ایسے حالات پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے انگریزوں کو اپنے قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی اور کسی بھی مذہب کی توہین کو جرم قرار دیا گیا اور اس طرح ایک علم دین کی شہادت قانون میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔آزادی پاکستان کے بعد توہین رسالت کے قانون کو ’’پاکستان پینل کوڈ‘‘ کا حصہ بنایا گیا اور 1982ء میں اس وقت پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے اس قانون میں ترمیم کرتے ہوئے قرآن کریم کی توہین کی سزا عمر قید جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی توہین کی سزا کم از کم سزا موت قراردے دی ۔


غازی علم دین شہید نے ناموس رسالت پراپنی جان کو قربان کرکے رہتی دنیا تک ایک لازوال مثال قائم کردی ، شہید کا کردار اسلام اور حق و سچ کی سربلندی کے لئے مسلمانوں کے لئے تا قیامت مشعل راہ رہے گا۔گستاخ رسول راجپال کو جہنم رسید کرنے والے سچے عاشق رسول غازی علم دین شہید کے 31 اکتوبر2016ء کو 87 ویںیوم شہادت کے موقع پر ملک بھر میں سیمینارز،قرآن خوانی اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں غازی علم دین شہید کو خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ۔


ایسے ہی ایک سعادت مند لاہور سے تعلق رکھنے والے علم دین ہیں جنہوں نے 1929میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ایک ہندو راجپال کو جہنم واصل کرکے شہید کا درجہ حاصل کیا ۔

جس وقت لاہور میں راجپال نے حضرت محمد رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک گستاخانہ مواد شائع کرکے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کئے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں نے عدالت سے رجوع کیا تاہم عدالتوں نے کوئی خاطر خواہ فیصلہ نہ کیا اور راجپال ان فیصلوں کے خلاف اپیلیں کر کے بلآخر بری ہوگیا. جس کے بعد عاشقان رسول رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی اور پورے برصغیر میں جلسے، جلوس اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا. اسی سلسلے کا ایک مظاہرہ لاہور میں دلی دروازے کے پاس ہو رہا تھا . علم دین کام سے واپسی پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رک گئے مسلمان مقررین راجپال کے خلاف اردو میں تقاریر کر رہے تھے. علم دین پڑھے لکھے نہ ہونے کے باعث کچھ سمجھ نا سکے تاہم ایک مقرر کی جانب سے جب پنجابی میں تقریر کی گئی تو انھے سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ایک ہندو راجپال کی جانب سے حضور پاک محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ہے اور مسلمان مقرر کی جانب سے کی گئی تقریر کے ان الفاظ "راجپال واجب القتل ہے " نے علم دین کے دل و دماغ میں طلاطم برپا کر دیا.

دوسرے دن ایک بزرگ نے خواب میں علم دین کو کہا کہ علم دین سو رہے ہو تمھارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں دشمن اسلام گستاخی کر رہے ہیں اٹھو جلدی کرو . علم دین نے اپنے خواب کا ذکر جب اپنے قریبی دوست شیدے سے کیا توو جواب میں اس نے کہا کہ اس نے بھی یہی خواب دیکھا ہے اور پھر دونوں دوستوں کے درمیان بحث چھڑ گئی کے راجپال کا قتل کون کرے گا بلآخر اس بحث کا خاتمہ دونوں عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قرعہ اندازی کے ذریعے کیا اور قرعہ فال علم دین کے نام نکلا تاہم دوست کے اسرار پر دوبارہ اور تیسری بار قرعہ اندازی کی گئی مگر ہر بار نتیجہ ایک ہی تھا . علم دین کے دوست نے ان سے بغلگیر ہو کر کہا کہ " علم دین تم خوش نصیب ہو جو اس کام کے لئے منتخب کر لیے گئے ہوکاش یہ کام میرے نصیب میں ہوتا علم دین نے دوست کو جواب دیا کہ " دعا کرنا میں اس کام میں کامیاب ہو جاؤں ۔

2 اپریل 1929 کو انار کلی میں واقع راج پال کے آفس میں داخل ہو کر علم دین نے گستاخ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم راجپال کو چھری کا وار کر کے جہنم واصل کر کے سچے عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہونے کا ثبوت دے دیا. وقوع کے بعد لوگوں نے علم دین کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا . راجپال کے قتل کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ھوگئے . مسلمانوں کی جانب سے علم دین کے حق میں اور ہندوں کی جانب سے ان کی مخالفت میں جلسے اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا. علم دین کے گھر کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا . اس مشکل وقت میں علم دین کے قریبی دوست شیدے نے ان کے گھر والوں کا ساتھ نا چھوڑا اور پولیس کی موجودگی کے باوجود علم دین کے گھر والوں کی خبر گیری کرتے رہے.

عدالتی کاروائی کے دوران خواجہ فیروز الد ین ایڈووکیٹ ، فرخ حسین اور دیگر مسلمانوں نے علم دین کا بھرپور ساتھ دیا تاہم سیشن کورٹ نے علم دین کو پھانسی کی سزا سنا دی. اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی اور علم دین کی جانب سے بانی پاکستان قائد اعظم نے عدالت میں دلائل دئیے مگر ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا . غرض یہ کہ ہر متعلقہ ادارے کو اپیل کی گئی مگر نتیجہ بے سود ہی رہا. اور بلآخر برمنگھم پیلس کی جانب سے بھی سزا کو برقرار ہی رکھا گیا . سزا کے بعد لاہور کے خراب حالات کے پیش نظر 4 اکتوبر 1929 کو علم دین کو میانوالی کی جیل منتقل کر دیا گیا . جیل اہلکاروں اور قیدیوں کے مطابق جیل میں موجود قیدی علم دین کی بہت عزت کرتے تھے اور جب کوئی قیدی بیمار ہو جاتا تھا تو علم دین کےہاتھ سے پانی پی کر صحت یاب ہو جاتا تھا. ایک سپاہی جو ان کی نگرانی پر مامور تھا اس نے دیکھا کے علم دین جیل میں موجود نہیں ہیں اس نے اعلی حکام کو فوری اطلاع دی جب انہوں نے آکر دیکھا تو علم دین جیل میں موجود تھے. اپنے دوست شیدے سے جیل میں ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ راجپال کا قاتل میں ہوں لوگ کہتے ہیں کہ میں نے موت کے ڈر سے عدالت میں صحتِ جرم سے انکار کیا لیکن میں نے موت کے ڈر سے نہیں اپنے بزرگوں کے کہنے پر عدالت میں انکار کیا تھا. اپنے عزیز و اقارب سے آخری ملاقات میں خوشی کا اظہار کرتے ہوۓ ان لوگوں کو بتایا کہ میں نے دعا مانگی تھی کے حضرت موسی علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو اور آج وہ مجھے خواب میں ملے اور پوچھا علم دین کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا حضرت اپ کلیم اللہ ہیں خدا سے کہیں کہ عدالت میں اپنے والد کی وجہ سے جو جھوٹ بولا ہے کہ راجپال کا قتل میں نہیں کیا . اللہ تعالیٰ میرا وہ گناہ معاف کردے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھے خوشخبری دی کے میرا وہ گناہ معاف کر دیا گیا ہے. اسی وجہ سے میں آج اتنا خوش ہوں.

میانوالی جیل میں 31 اکتوبر 1929 کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تختہ دار پر لٹکا کر فانی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف روانہ کر دیا گیا . تختہ دار پر پوچھی گئی آخری خواہش کے جواب میں شہید علم دین نے کہا کو میں چاہتا ہوں کہ پھانسی کا پھندا خود اپنا گلے میں ڈالوں اورمیرے ہاتھ پاؤں نا باندھے جائیں تاکہ شدید اذیت سے دوچار ہو کر اگلے جہاں میں محبوب خدا کا قرب حاصل کر سکوں تاہم دونوں خواہشات کو رد کر دیا گیا.

پھانسی کے وقت وہاں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ میں حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لیے راج پال کو قتل کیا تم گواہ رہوں کہ میں عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں کلمہ شہادت پڑھ کر جا ن آفریں کے سپرد کر رہا ہوں. اور پھر کلمہ شہادت پڑھا اور اپنی جان کو ناموس رسالت صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا.

اعلیٰ حکام نے حالات خراب ہونے کے ڈر سے شہید کی تدفین غسل کے بناہ ہی قیدیوں کے قبرستان میں کردی . حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خاطر جان قربان کرنے والے کی اس طرح تدفین کی خبر جب مسلمانوں کی ہوئی تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا . جلسوں میں مسلمان مقررین نے مسلمانوں کے قلوب کو ایسا گرما یا کہ وہ شہید علم دین کا لاشہ حاصل کرنے کے خاطر مر مٹنے کو تیار ہوگئے . اسی دوران مسلمانوں کے وفد نے جو کہ علامہ اقبال، سر شفیع، میاں عبدالعزیز ، مولانا غلام محی الدین قصوری پر مشتمل تھا نے ڈپٹی کمشنر ، کمشنر اور گورنر پنجاب سے ملاقات کی . اور کچھ شرائط کے بعد لاش کی حوالگی کا معاملہ طے پاگیا. حکام کی جانب سے پھانسی کے 13 دن بعد علم دین شہید کی لاش کو میانوالی سے لاہور لاکر مسلمان معززین کے حوالے کر دی. چوبرجی کے میدان میں لاکھوں فرزاندن اسلام نے شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی . جنازے کے راستے میں خواتین اسلام گھروں کی چھتوں پر کلام اللہ کی تلاوت کر رہی تھی اور مرد حضرات جنازے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ کلمہ طیبہ کا ورد ، نعرہ تکبیر اور علم دین شہید زندہ آباد کے نعرے بلند کر رہے تھے. جنازہ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھی. تدفین سے قبل ہی قبر کو پھولوں سے بھر کر پھولوں کا بستر بنا دیا گیا اور تدفین کے بعد قبر کو پھولوں سے لاد دیا گیا تھا . بلاشبہ یہ مقام ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ہی مل سکتا تھا، جس نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوۓ خود کو حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا. وہ علم دین جس کو کچھ عرصہ قبل تک چند لوگ ہی جانتے تھے اس واقعہ کے بعد آج مسلم امہ اسے علم دین شہید اور سچے عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے. اور رہتی دنیا تک غازی علم دین شہید کا نام عاشق رسول اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر جان قربان کرنے والوں کی فہرست میں چمکتا دمکتا رہے گا ۔ 

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement