مطالعہ کیوں ضروری ہے؟
میرے پاس فوٹو کے ذریعے ایک پیغام موصول ہوا جو واقعی میں بہت ہی کار آمد ،،، بہترین باتوں کا حامل تھا،، بالخصوص اُس فوٹو میں اُن حضرات کے لیے ہدایات تھی جو مطالعہ تو کرتے ہیں لیکِن ذہن میں اکثریت باتیں نہیں رہ پاتی،،
پوسٹ کے ذریعے اُس فوٹو کو یہاں تحریر میں تبدیل کر رہا ہوں،،، کچھ لائن کی حکایت ہے،، اُسکے بعد مینے اپنی باتیں رکھنے کی کوشش کی ہے ،،، اگر کہیں غلطی پائیں تو فوراً مجھے آگاہ کریں،،
"ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے استاذ صاحب سے شکایت کی کہ آپ کتابیں پڑھنے کی نصیحت کرتے رہتے ہیں ، آپکا کہنا ہے کہ کتابیں پڑھنے سے انسان کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہیں ،، لیکِن میں جب بھی کوئی کتاب پڑھتا ہوں ، تو تھوڑے وقت کے بعد جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اُسکی اکثریت میرے ذہن میں نہیں رہتی ،، اب آپ بتائیں کہ کتابوں کے ایسے مطالعے سے مجھے کیا فائدہ ملے گا"،،؟؟
اُستاد مکرم بڑے زمانہء شناس اور علمی شخصیت تھے،، وہ عام انسان کی نفسیات سے بخوبی واقف تھے،، اُنہوں نے سوال کرنے والے شخص کو ایک کھجور دی اور کہا کہ اسے اچھی طرح چبا کر کھالو،، جب وہ شخص کھجور کہا چکا تو استاذ صاحب نے پوچھا ،،
کیا یہ کھجور کھانے سے آپ بڑے ہو گئے ؟؟
اُس نے جواب دیا نہیں،،!!
استاذ صاحب کہنے لگے ،، لیکِن یہ کھجور تمھارے جسم میں گھل مل گئی ، اسکا کچھ حصہ گوشت بنا، کچھ ہڈی، کچھ پٹھا، کچھ کھال، کچھ بال، کچھ ناخن، اور کچھ مسام، اب اس چیز کو اچھی طرح سمجھ لو کہ آپ جو کتاب بھی پڑھتے ہو، وہ تقسیم ہو جاتی ہے ، اُس کا کچھ حصہ تمہاری لغت مضبوط کرتا ہے، کچھ تمہاری معرفت بڑھاتا ہے،، کچھ اخلاق سنوارتا ہے،، کچھ تمھارے لکھنے بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے، اگر چہ تم {اُس کھجور کی طرح} یہ سب محسوس نہیں کر پاتے،،
حاصلِ کلام اور اہم ترین باتیں.
لہٰذا یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مطالعے میں پڑھی ہوئی چیز سیم ٹو سیم ذہن میں پیوست ہو جائے ایسا ضروری نہیں ہے،،، اُسکا کچھ حصہ تمہاری لغت وغیرہ میں فائدہ دیتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا تمام باتوں سے یہی نکات نکلے ہیں،،، ،، یہ کوئی عذر نہیں ہے کہ آپکے ذہن میں مطالعے کا تمام مواد آ جائے،، بلکہ کچھ کچھ آئےگا،، البتّہ آپ نے ہمت نہیں ہارنا ہے،، آپ نے آخری وقت تک کوشش کرتے رہنا چاہیے،، مثلاً ایک شخص جب درسِ نظامی کرنے مدرسے جاتا ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ پہلے ہی دن سے ساری کہ ساری گردان سنانا شروع کردیں،،، بلکہ وہ دھیرے دھیرے 2 - 2 ،، 3- 3 صفحے سنا کر لائن پر آتا ہے،،، پھر جیسے ہی اُسکی پریکٹس بن جاتی ہے،، اُسکا ذہن کھل جاتا ہے،، ٹھیک اسی طرح جب آپ مطالعہ کرنے بیٹھتے ہیں تو شیطان آپکو ورگلائے گا ،، لیکِن آپ نے مطالعہ کرتے رہنا ہے،،
اگر مطالعہ کرتے وقت کتاب پڑھنے میں دل نہ لگے تو ؟؟
اگر آپکے پاس مختلف عنوانات پر کتابیں موجود ہے ، اب جیسے ہی آپ فقہ پر مبنی کتاب پڑھ رہے ہیں اور آپکا دل نہیں لگ رہا ہے تو اُسی وقت اسکو بند کرکے،، دیگر موضوع پر مبنی کتاب پڑھنا شروع کردیں،، جیسے سیرت. معلومات نحو، صرف. وغیرہ وغیرہ،، اس طرح آپکو بوریت بھی محسوس نہیں ہوگی، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک کتاب پڑھنے سے بندہ بور ہو جاتا ہے،
مطالعہ کتنا ضروری ہے؟؟
عام ہو یاخاص ہر شخص کو اپنی زندگی کا ایک اہم وقت نکال کر مطالعے کو دینا چائیے،،، اگر بندے کی زندگی میں مطالعے کا کوئی شوق نہیں ہے،، یا اس نے مطالعے کے تعلق سے کوئی وقت نہیں باندھ رکھا ہے تو اُسکے اندر علم کی وہ مہارت نہیں آ پائے گی جو مطالعہ کرنے سے آئے گی اور خواص کو تو خصوصاً مطالعے کی طرف رجوع کرنا چاہیے،،، کیوںکہ مطالعہ یہ عالم کا ہتھیار ہے،،، اگر بندے کا مطالعہ ہے تو وہ باطل کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے ،،، مطالعہ کرنے سے آپکے ذہن میں نئے نئے الفاظ کا ایک ذخیرہ بن جائے گا،، اور اگر آپ کسی کو سمجھا رہے ہیں تو وہی مطالعہ آپکے لئے کار آمد ثابت ہوگا،،،
لہٰذا آپ سے جیتنا ہو سکے مطالعے میں وقت دیں،،،
میں اپنا ذاتی مسئلہ بتا رہا ہوں کہ مجھے درسی کتب سے زیادہ مطالعہ کرنے کا شوق ہے،،، البتّہ پہلے درسی کتب ہیں پھر مطالعہ،،،
اللہ تعالیٰ ہمیں درست طریقے سے مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،،،
محمد سہیل نظامی.
بتاریخ 10/12/21 ء
0 Comments