Ad Code

Responsive Advertisement

امام ابوحاتم رازی اور طلب علم حدیث

امام ابوحاتم رازی اور طلب علم حدیث

آپ علل حدیث کے امام ہیں امام بخاری امام ابوداؤد امام نسائی اور امام ابن ماجہ کے شیوخ میں  سے ہیں طلب حدیث میں اس وقت سفر شروع کیا جب ابھی سبزہ کا آغاز نہیں ہوا تھا مدتوں سفر میں رہتے اور جب گھر آتے تو پھر سفر شروع کر دیتے آپ کے صاحبزادے فرماتے ہیں

سمعت أبي يقول أول سنة خرجت في طلب الحديث أقمت سنين أحسب ومشيت على قدمي زيادة على ألف فرسخ فلما زاد على ألف فرسخ تركته

مفھوم

میرے والد فرماتے تھے سب سے پہلی مرتبہ علم حدیث کے حصول میں نکلا تو چند سال سفر میں رہا پیدل تین ہزار میل چلا جب زیادہ مسافت ہوئی تو میں نے شمار کرنا چھوڑ دیا

[ابن حجر العسقلاني ,تهذيب التهذيب ,۹/٣٣]

پیدل کتنی کتنی لمبی مسافتیں اس راہ میں آپ نے طے کیں اس کا اندازہ خود ان کے بیان سے کیجیے

وَخَرَجْتُ مِنَ البَحْرَيْنِ إِلَى مِصْرَ مَاشِياً، ثُمَّ إِلَى الرَّمْلَةِ مَاشِياً، ثُمَّ إِلَى دِمَشْقَ، ثُمَّ أَنْطَاكِيَةَ وَطَرَسُوْسَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حِمْصَ، ثُمَّ إِلَى الرَّقَّةِ، ثُمَّ رَكِبْتُ إِلَى العِرَاقِ، كُلُّ هَذَا فِي سَفَرِي الأَوَّل وَأَنَا ابْنُ عِشْرِيْنَ سَنَةً

مفھوم

آپ فرماتے ہیں میں بحرین سے مصر پیدل گیا پھر رملہ پیدل گیا پھر دمشق گیا پھر انطاکیہ اور طرطوس گیا پھر میں حمص واپس گیا پھر رقہ کی طرف گیا پھر میں عراق چلا گیا  یہ سب میرے پہلے سفر پر ہے جب میں بیس سال کا تھا

[الذهبي، شمس الدين، سير أعلام النبلاء ط الرسالة، ٢٥٦/١٣]

آپ کے صاحبزادے فرماتے ہیں:

سمعت أبي يقول أقمت سنة أربع عشرة ومائتين بالبصرة ثمانية أشهر قد كنت عزمت على أن أقيم سنة فانقطعت نفقتي فجعلت أبيع ثيابي شيئا بعد شيء حتى بقيت بلا شيء 

مفھوم

میرے والد بیان فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ۲١٤ھ میں بصرہ میں قیام رہا ارادہ تھا کہ ایک سال یہاں رہوں گا لیکن آٹھ ماہ بعد زادراہ ختم ہو گیا اب میں نے ایک کپڑا فروخت کر دیا پھر دوسرا اسی طرح خروخت کرتا رہا اور خرچ کرتا رہا یہاں تک کہ آخر میں کچھ باقی نہ رہا

[ابن حجر العسقلاني، تهذيب التهذيب، ٣٣/٩]

✍🏻فیضان رضوی

الرضا اسلامک ریسرچ سینٹر

14/12/21ء

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement