Ad Code

Responsive Advertisement

قرآنِ پاک کے بارے میں عقائد و معلومات

قرآنِ پاک کے بارے میں عقائد و معلومات

قرآنِ پاک کے بارے میں عقائد و معلومات

قراٰنِ کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کی تلاوت کرنے والے کو ہر ہر حرف پر دَس دَس نیکیاں ملتی ہیں۔  (ترمذی، ج4، ص417، حدیث: 2919) 

یہ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ کی آخری آسمانی کتاب ہے، جو اس نے اپنے آخری نبی محمد مُصطفےٰ صلَّی اللّٰه تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم پر نازل فرمائی۔  (پ16، طٰہٰ:2 ماخوذاً) 

مکمل قراٰنِ کریم یکبارگی (اکٹھا، ایک ہی بار میں) شبِ قدر میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا۔  (خازن،ج1، ص121، البقرۃ، تحت الآیۃ:185) 

پھر وہاں سے حضرت جبریل علیہِ السَّلام تقریباً 23 سال کے عرصے میں حالات و واقعات کے مطابق تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوتے رہے۔ 

قراٰنِ کریم کی موجودہ کتابی ترتیب وہی ہے جو لوحِ محفوظ پر ہے۔ (تفسیرِنعیمی، ج1، ص21 ملخصاً) 

قراٰنِ کریم جیسا کلامِ بلیغ بلکہ اس جیسی ایک آیت بھی تمام جنّ و اِنس مل کر نہیں بنا سکتے، اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کرسکتے ہیں، 

جو کوئی قراٰن میں کسی کمی بیشی کا عقیدہ رکھے کافر ہے۔ 

قراٰنِ کریم میں ہر خشک و تر کا بیان ہے۔ 

قراٰنِ کریم کی تقسیم عہدِ رسالت میں دو طریقے سے ہوئی تھی: 

(1) سورتوں کے اعتبار سے، 

(2) منزلوں کے اعتبار سے، یعنی قراٰن کریم کی سات منزلیں کی گئی تھیں تاکہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے سات دن میں قراٰن ختم کرسکے پھر اس کے بعد قراٰنِ کریم کے تیس (30) حصّے برابر کئے گئے، جس کا نام تیس پارے رکھا گیا تاکہ تلاوت کرنے والا ایک پارہ روز کے حساب سے ایک ماہ میں قراٰن ختم کرسکے. (ملخص از تفسیرِنعیمی، ج1، ص25) 

پہلے نقطے نہیں لگائے جاتے تھے: 

شروع میں جب قراٰنِ کریم کو لکھا جاتا تو اس کے حروف پر نقطے، حَرَکَات و سَکَنات (یعنی زیر، زبر، پیش اور جزم)، اعراب اور رموزِ اوقاف (ط، م، قف، لا، ج وغیرہ) نہ لگائے جاتے تھے کیونکہ اہلِ عرب اپنی زبان اور مُحاوَرَہ کی مدد سےنقطوں اور حرکات و سکنات کے بغیر پڑھ لیتے تھے۔ 

حضرت سیّدنا عثمان غنی ذوالنورین رضیَ اللّٰه تعالٰی عنہ نے جو مُصْحَف تیار کروایا تھا وہ بھی ان تمام چیزوں (یعنی نقطوں اور اعراب وغیرہ) سے خالی تھا۔ اس میں زبر، زیر وغیرہ بعد میں لگائے گئے، 

مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کےحکم سے کیا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کام ابوالاسودالدؤلی تابعی (متوفّٰی:69 ہجری) نے کیا 

مد اور وقف وغیرہ کی علامات خلیل ابن احمد فراعیدی نے لگائیں۔ (ملخص از تفسیرِنعیمی، ج1، ص25) 

مامون عباسی کے دور میں قراٰن کریم میں رُبْع، نِصْف، ثلٰثہ اور رکوع کے نشانات لگائے گئے، 

رکوع کے لئے معیار یہ رکھا گیا کہ حضرت سیّدنا عثمان غنی ذوالنورین رضیَ اللّٰه تعالٰی عنہ تراویح کی نماز میں جس قدر قراٰن پڑھ کر رکوع فرماتے تھے، اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا اس لئے اس کے نشان پر قراٰنِ کریم کے حاشیہ پر ”ع“ لگادیتے ہیں، 

بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے، 
بعض کہتے ہیں عثمان کے نام کا عین ہے، 
لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظِ رکوع کا عین ہے۔ (تفسیرِنعیمی، ج1، ص26 ملخصاً) 

اللّٰه تعالٰی ہمیں قراٰنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللّٰه تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم .


✍🏻عبدِ مُصطفیٰ 
محمد ذاکِر حسین قادری منظوری 


✔️ اشعار 
یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہو جائے 
تلاوت کرنا صبح و شام میرا کام ہو جائے

یہی ہے آرزو تعلیمِ قراٰں عام ہو جائے 
ہر اک پرچم سے اونچا پرچم اسلام ہو جائے 

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر 
اور تم خوار ہوئے تارکِ قراٰن ہو کر 

اگر درسِ قراٰن ہم نے بھلایا نہ ہوتا 
یہ ذلت کا سایہ زمانے پہ چھایا نہ ہوتا 

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement