نبی یا نَبِیَّہ نام رکھنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نبی یا نَبیَّہ نام رکھنا اور اس نام سے پکارنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
نبی نام رکھنا اور اس نام سے پکارنا شرعاً حرام ہے اور یہی حکم نَبیَّہ نام رکھنے کا ہے۔ اس حکم کی تفصیل یہ ہے کہ کسی غیرِ نبی کو نبی ماننا اگرچہ کفر ہے، مگر یہاں حکمِ کفر تو اس وجہ سے نہیں کیونکہ نادان مسلمان اس بچے کو ہر گز نبی یا نَبیَّہ نہیں مانتے بلکہ محض اپنی جہالت و حَماقَت سے یہ نام رکھ لیتے ہیں، البتہ چونکہ یہ لفظ ظاہری طور پر اس کے نبی ہونے کا گویا دعویٰ کرنا ہے اس لئے یہ نام رکھنا ناجائز و حرام ضرور ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم
مُجِیب: محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
مُصَدِّق:محمد ہاشم خان العطاری المدنی
0 Comments