Ad Code

Responsive Advertisement

عادات و اخلاق حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

عادات و اخلاق حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

 
عادات و اخلاق حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ


اخلاق حسنہ کے بغیر کوئی شخص کبھی بھی قبولیت عام نہیں پاتا، اخلاق حسنہ و اوصاف حمیدہ کے ذریعہ انسان کے اندر انسانیت آتی ہے اور اسی کے ذریعے ہی انسان دیگر مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے صفات حمیدہ اور خصائص حسنا سے انسان کے کام میں پختگی آتی ہے۔ جلالۃالعلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان اسلامی اخلاق و آداب کے معلم بھی تھے اور ان پر عامل بھی اور اسلامی اخلاق جس کی ذات میں شامل ہو جائے وہ شخص مہذب مودب ہو جاتا ہے اور صداقت و دیانت کا نمونہ بن جاتا ہے۔

حضور حافظ ملت کے طلبہ اور اہل عقیدت میں بہت سے ایسے خوش نصیب ہیں جن کے گھر کو آپ اپنا گھر سمجھتے تھے ان کے گھر مین اکثر آتے جاتے رہتے، ان کے ہر خوشی و غم میں شریک رہتے، یہ معاملہ صرف بڑے شہروں یا قصبوں تک محدود نہیں تھا بلکہ بسا اوقات آپ موسم برسات میں ۴/۴ میل تک کا راستہ پیدل چل کر گاؤں میں تشریف لے گئے اور اپنے اخلاق کریمہ کا مظاہرہ کیا۔

خود مولانا عبد اللہ خان اعظمی حافظ ملت کے شاگرد بھی ہیں اور مرید بھی وہ بیان کرتے ہیں:
کہ میرا غریب خانہ ضلع گونڈا بھانبھر کے اس حصہ میں واقع ہے جہاں سے نیلے آسمان سے پہاڑ ہمالیہ کی چوٹیاں گویا سرگوشی کرتی دکھائی دیتی ہیں اس پہاڑی علاقہ میں آمدورفت کی سہولتیں ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی اب تک معدوم ہیں لیکن حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ بارہا غریب خانے پر تشریف لے گئے اور اپنی نوازشوں کی بارش کی، بعض اوقات بغیر کسی اطلاع سابق کے ہمارے گاؤں کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے حضرت موسم برسات میں پیدل پنچپیروا اسٹیشن سے تقریبا چار میل کا راستہ پیادہ چل کر ہمارے گاؤں ناؤڈیہات تشریف لائے میں نے حضرت کی بارگاہ میں عرض کی کہ حضرت پیدل چلنے کی زحمت فرماتے ہیں اگر اطلاع دیتے تو خادم کم ازکم بیل گاڑی کا انتظام کر دیتا۔ ارشادہوا: گھرآنے کےلیے طلاع کی چنداں ضرورت نہیں محسوس کرتا "آپ کا گھر میرا گھر ہے"۔

حضرت الاستاد مولانا محمد شفیع الاعظمی صاحب قبلہ حضور حافظ ملت کی عادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہر استاد صرف اپنے ذہین اور محنتی شاگردوں پر ہی شفیق ہوتے ہیں لیکن حافظ ملت علیہ الرحمہ کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ غبی سے غبی طلبہ سے بھی اتنا ہی پیار کرتے جتنا ذہین شاگرد سے۔
طلبہ اور بچوں سے شفقت و محبت کا برتاؤ عام تھا۔ بے جا خشونت و سختی اور رعب و دبدبہ سے کوسوں دور رہتے، علما ومشائخ کرام کے ساتھ توقیر سے پیش آتے اور عدل کے ساتھ ان کی ستائش بھی کرتے۔

انسان کا اخلاقی فریضہ ہے کہ دوسرے انسانوں کی بھلائی میں کوشش کرے بلکہ اعلی ظرف لوگوں کا تو یہ طریقہ رہا کہ وہ اپنی فکر چھوڑ کر اپنے آپ کو دوسروں کے لیے وقف کردیتے حافظ ملت علیہ الرحمہ چوں کہ نائب رسول ﴿ﷺ﴾ تھے اس لئے یہ جذبہ ان میں بھی موجود تھے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود مبارک پور کے اندر اور اطراف و جوانب میں صرف علما کرام، تلامذہ، متوسلین بلکہ عام سا تعلق رکھنے والے مسلمان کی حالت کے بارے میں سنتے تو وقت نکال کر ان کی عیادت کے لیے ضرور تشریف لے جاتے تے۔

حضرت مولانا محمد احمد مصباحی بھیروی لکھتے ہیں:
دور طالب علمی میں ایک بار میں اشرفیہ میں بیمار پڑ گیا کسی طرح حضرت کو معلوم ہو گیا اچانک دیکھتا ہوں کہ حضرت معمول کے خلاف نیچے میرے کمرے میں تشریف لا رہے ہیں،قریب آئے، حال پوچھا، نصیحت کی اور دعا دے کر تشریف لےکئے۔

مزید فرماتے ہیں کہ:
حافظ ابراہیم صاحب مبارک پوری مرحوم رشتے میں والد صاحب کے بھائی ہوتے ہیں، اکثر ہمارے گھر میں ان کی آمد ہوتی، بڑی محبت رکھتے تھے۔ ایک بار والد صاحب بیمار پڑ گئے تو حافظ ابراہیم صاحب سے کہا کہ مبارک پور جاکر حافظ ملت سے دعائے شفا کرائیں اور ہو سکے تو حضرت سے ایک تعویز بنا کر بھیج دیں، موصوف نے حضرت سے پیغام عرض کیا اور تعویذ لے کر بھیج دیا اس کے چند دنوں بعد حضرت حافظ ملت کا محمدآباد گوہنہ ایک اجلاس میں تشریف لانا ہوا ( مبارک پور سے براہ ابراہیم پور، محمد آباد جانے کے راستے میں خیرآباد سے پہلے دھرہرا گھاٹ پڑتا ہے جہاں سے اتر کر ٹونس ندی پار کر کے ہمارے وطن بھیرہ تک رسائی ہوتی ہے۔ ندی سے بھیرا تک پیادہ تقریبا 20 منٹ کا راستہ ہے۔) اس دن اچانک حافظ ملت اور سید حامد اشرف صاحب غریب خانے پر پہنچے میں اس وقت حیدرآباد مدرسہ ضیاءالعلوم میں زیر تعلیم تھا، آواز سنی تو ننگے سر باہر نکلا حضرت کو ناگہاں دیکھ کر سخت متعجب ہوا، ملاقات کی اور حضرت اندر تشریف لائے اور والد صاحب سے بھی ملے، والد صاحب کو دیکھ کر فرمایا: آپ کو صحت یاب دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی عیادت کے لیے محمدآباد کا رکشہ چھوڑ کر یہاں آ گیا۔

گویا آپ اس شعر کے مصداق تھے کہ
اخلاق سب سے کرنا تسخیر ہے تو یہ ہے
خاک آپ کو سمجھنا اکسیر ہے تو یہ ہے

✍ تحمید برکاتی

جاری ہے

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement