Ad Code

Responsive Advertisement

امامت ایک عظیم الشان منصب ہے۔

 امامت ایک عظیم الشان منصب ہے۔


جو کام جتنا عظیم ہو اتنا ہی مشکل و دشوار ہوتا ہے۔
موڈ اور طبیعت کیسی بھی ہو ،،،
ذہن و خیالات کتنے ہی الجھے ہوں ،،
پانچ وقت نماز میں وقت مقررہ پر موجود ہونا۔
جماعت قائم کرنا پھر دعائے ثانی تک مسجد میں موجود رہنا پھر بعدِ دعا خندہ پیشانی سے مسکرا مسکرا نمازیوں سے مصافحہ کرنا۔
جنازہ موجود ہو تو نماز جنازہ پڑھانا
غسلِ میت کے لیئے جانا۔ تدفین میں شریک ہونا
سوئم دسواں چالیسواں اور برسی کی فاتحہ میں قل خوانی میں شریک ہونا
بچہ پیدا ہو تو کانوں میں اذان دینا
لوگوں کے مسائل سننا ان کے جوابات دینا درپیش اشکالات کو حل کرنا
تقاریر کی تیاری کرنا تقاریر کرنا
بڑی راتوں میں محافل کا اہتمام کرنا آخر تک محفل میں موجود رہنا اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ذمہ داریاں ہیں جو امامِ مسجد کے ناتواں کاندھوں پر بھاری بار کی طرح لاد دی گئی ہیں۔
یہ تمام امور کہنے سننے میں بظاہر آسان ہیں مگر روز کے معمولات کے اعتبار سے یہ دشوار ترین امور ہیں
ان دشواریوں کے علاوہ بڑی دشواری " ضعیف العمر نمازی " ہیں
یہ خاموش ہوں تب بھی ذہنیت اذیت ہیں یہ منہ کھولیں تب دوہری ذہنیت اذیت ہیں
انکی گھر میں کوئی نہیں سنتا
اس کا بدلہ یہ مسجد کے امام سے لیتے ہیں
جو گھر میں نہیں سنا سکتے وہ سب کچھ امام مسجد کو سناتے ہیں
سرسری باتوں پر جُھرجُھری لیتے ہیں
غیر ضروری پر بڑبڑاتے رہتے ہیں
منہ میں دانت نہیں پیٹ میں آنت نہیں مگر حافظہ انتہاء کا مضبوط ہوتا ہے
انہیں جھیلنا
" اقبال کے مومن " کی استطاعت سے باھر کی چیز ہے
ضعیف العمر نمازی ایک تو اذان سے پہلے مسجد آجاتے ہیں پوری مسجد میں صرف یہی وہ لوگ ہیں جو بار بار گھڑی دیکھتے ہیں
پھر گردن گھما کر امام صاحب آئے یا نہیں یہ دیکھتے ہیں
وقت کے ساتھ ساتھ انکا اضطراب بڑھتا جاتا ہے اور انکی حرکات و سکنات سے جھلکتا بھی ہے
گھڑی دیکھنے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کے عمل میں تیزی آجاتی ہے جیسے انہیں بہت ضروری کام سے جانا ہو
ویسے یہ نماز کے بعد بھی مسجد میں ہی بیٹھے رہتے ہیں
خادم بیچارہ انکے انتظار میں مسجد میں ہی بیٹھا رہتا ہے
کہ یہ اللہ کے ولی جائیں تو مسجد کو مقفل کرے۔
جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے نیند کم ہوتی جاتی ہے
یہ تہجد کے وقت مسجد پہنچ جاتے ہیں۔ پھر انہیں امام کا انتظار رہتا ہے۔
دھیڑ ہشیار پڑھے لکھے بے روزگار ادھیڑ عمر کے افراد بھی امام کی دشواریاں بڑھانے میں پیچھے نہیں ہیں
یہ صرف جماعت میں کہتے ہیں کہ " پیچھے اس امام کے " جماعت کے علاوہ یہ نادر نمونے ہمیشہ امام سے آگے رہنا چاہتے ہیں یہ ہر معاملے میں خود کو عقلِ کل اور امام کو انجان سمجھتے ہیں ایسے سمجھانے کوشش کرتے ہیں جیسے امام" خلائی مخلوق " ہے ابھی ابھی اس پلینٹ " زمین " پر آیا ہے اسے انسانی معاشرت کا بلکل علم نہیں ہے
امامت کی دشواریوں کی فہرست مترتب کی جائے تو سر فہرست آتے ہیں " مہذب شریف غنڈے " جنہیں عرفِ عام میں مسجد انتظامیہ کہا جاتا ہے
انکا امام سے بلکل ویسا ہی تعلق و سلوک رہتا ہے جیسا امریکہ اور افغانستان کا ہے
امریکہ انسانیت کے راگ الاپتا ہے لیکن درپردہ خون کی ندیاں بہاتا ہے
مسجد انتظامیہ بظاہر مسجد کے خدمتگار ہوتے ہیں مگر درپردہ امام کی زندگی کی تمام دشواریوں کی اصل وجہ اکثر یہی مذہبی غنڈے ہوتے ہیں۔
یہ دکھتے کچھ ہیں ہوتے کچھ ہیں اور ایسا بہت کچھ کرتے ہیں جس سے انکی نیک نامیاں اور امام کی دشواریاں بڑھتی رہیں۔
یہ امامِ مسجد کو زر خرید غلام سمجھتے ہیں دین کا علم صفر ہوتا ہے اور ایک عالم مفتی کو اپنی سوچ پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
قلیل تنخواہ میں انہیں مکمل پیکج چاہئیے جس سے انکی شہرت اور مسجد کا چندہ بڑھتا رہے۔
امام کی رہائش اسکی ضروریات سے انکا تعلق ایسا ہی ہے جیساکہ موجودہ حکومت کا عوام سے ہے۔ یہ سارا سال کم وسائل کا " بیوہ روئے "
جیسے رونا روتے رہتے ہیں۔
آرائش و زیبائش پر خرچ کرتے رہیں گے لیکن امامِ مسجد کو ترسا ترسا کے رکھیں گے
امام کی کم سیلری انہیں بہت لگتی ہے اور بہت سارے کام کم لگتے ہیں۔
بلاشبہ امامت اسلامی معاشرت اور عبادت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ امام کی ذمہ داریاں مختصر و محدود ہونی چاہئیے۔ وظیفہ معقول اور عصرِ حاضر کے مطابق ہونا چاہئیے۔ امام کے بھی شہری و معاشرتی حقوق طے کیئے جانے چاہئیے
اور سختی سے انکی رعایت بھی کی جانی چاہئیے۔ مسجد انتظامیہ میں باشعور پڑھے لکھے اچھی پوسٹ پر اچھا کمانے والے جوان ہونے چاہئیے جنہیں پیسے کی اہمیت و ضرورت کا مکمل احساس ہو۔

العارض: شکیل رضا المدنی

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement