Ad Code

Responsive Advertisement

معذور کی تعریف، معذور شرعی کا حکم | Mazoor ki namaz


سوال: معذور کسے کہتے ہیں، اس کی اصل کیا ہے، اور باب نماز میں معذور کا کیا حکم ہے ؟    

معذور کی تعریف، معذور شرعی کا حکم | Mazoor ki namaz

الجواب بعون الملک الوھاب: ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری لاحق ہو کہ اس بیماری کی وجہ سے اس پر نماز کا ایک پورا وقت ایسا گزر جائے کہ وہ وضو کے ساتھ اس وقت میں نماز فرض ادا نہ کر سکے تو وہ معذور شرعی ہے۔

    جیسے پیشاب کے قطرے آنا، پیٹ کا جاری ہونا، بار بار ہوا خارج ہونا، دکھتی آنکھ سے پانی نکلنا، پھوڑے یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، کان، یا ناف، یا پستان سے پانی کا نکلنا اورعورت کو استحاضہ کا خون آنا کہ یہ سب بیماریاں وضو کو توڑنے والی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بیماری نماز کا پورا ایک وقت گھیر لے کہ لاکھ کوشش کے باوجود اتنا وقت نہیں مل پا رہا ہے کہ وضو کر کے نماز فرض پڑھ سکے تو عذر ثابت ہو گیا۔

    اور اگر تھوڑا وقفہ ملتا بھی ہے لیکن وہ وضو اور ادائے نماز کے لیے کافی نہیں ہے تو بھی ایسا شخص معذور شرعی قرار پائے گا۔ عذر ثابت ہونے کے لیے اتنی بات ضروری ہے۔ پھر جب تک ایسی حالت باقی رہے گی یا وقت کے اندر کم از کم ایک بار ہی یہ عذر پایا جائے گا تو وہ معذور ہی رہے گا، اور جب کسی نماز کا پورا وقت اس بیماری سے خالی ہو تو یہ شخص معذور شرعی نہیں رہے گا۔

معذور کی اصل

    معذور کی اصل وہ حدیث پاک ہے جس میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت کو خون جاری ہوتے ہوئے نماز پڑھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرے۔

    جامع ترمذی میں ہے: " عن النبی ﷺ أنه قال فی المستحاضۃ تدع الصلوٰۃ أیام اقرائھا کانت تحیض ثم تغتسل و تتوضأ عند کل صلاۃ و تصوم و تصلی"۔

    ترجمہ: حضور نبی کریم ﷺ نے استحاضہ والی عورت کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جن دنوں میں اسے حیض آتا تھا ان دنوں میں نماز چھوڑ دے پھر غسل کرے اور ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرے اب روزہ ، نماز ادا کرے۔
    ( جامع الترمذی، ابواب الطھارۃ، ج:1، ص: 18، مجلس برکات)

معذور کا حکم

    نماز میں معذور کا حکم یہ ہے کہ وقت میں وضو کرے اور اس وضو سے آخر وقت تک جتنی نمازیں پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے، خواہ وہ فرض ہوں یا واجب یا سنن یا نوافل یا ادا و قضا۔ اس بیماری سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا اگر چہ نجاست کپڑوں میں لگ جائے یا مصلیٰ تَر ہو جائے، ہاں اس فرض نماز کا وقت ختم ہو جانے کے بعد اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
ماخوذ از: (1) رد المحتار، کتاب الطھارۃ، ج:1، ص:504،505 بیروت۔
            (2) بہار شریعت، حصہ دوم، ص:385، استحاضہ کا بیان، مکتبہ مدینہ۔



                کتبہ محمد اشرف رضا مصباحی 
                20/ ربیع الآخر 1443ھ
                26/ نومبر 2021ء
جمعہ

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement