نورانیت مصطفیٰ صلی ﷲ علیہ وسلم
حضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا آپ جب سورج کی روشنی یا چراغ کی روشنی میں قیام فرماتے تو آپ کی چمك سورج اورچراغ کی روشنی پر غالب آجاتی تھی۔
(شرح الزرقانی ٢٢٠/٤)
شیخ الاسلام علّامہ عبدالرءوف مُناوی علیہ رحمۃ اللہ الکافی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :یہ نور محسوس ہوتا تھا اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کُل ذاتِ شریفہ ظاہری و باطنی طور پر نور تھی حتّٰی کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے اصحاب میں سے جس کو چاہتے اُسے نور عطا فرماتے جیسا کہ حضرت سیّدنا طفیل بن عَمرودَوسی رضی اللہ تعالٰی عنہ کوعطافرمایا۔
(فیض القدیر،٩٣/٥)
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: بَوَقتِ سحر کھو جانے والی سوئی حضور نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرۂ انور کی روشنی کی کرن سے مل گئی۔
(القول البدیع، ص302)
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: جب نبیٔ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسکراتے تو درو دیوار روشن ہو جایا کرتے تھے۔
(مصنف عبدالرزاق،٢٤٢/١٠ حدیث: 20657)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے:
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں پیدائش آدم علیہ السلام سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے رب کے ہاں نور تھا۔
(سیرت حلبیہ٤٧/١)
حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تمہاری عمر کتنی ہے؟ عرض کیا اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ چھوٹے حجاب میں ستر ہزار سال کے بعد ایک ستارہ طلوع ہوتا تھا اور میں نے اسے بہتر ہزار مرتبہ دیکھا ہے،حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:اے جبرائیل مجھے میرے رب کی عزت کی قسم وہ ستارہ میں ہوں۔
(سیرت حلبیہ٤٧/١)
حضرت ابو العاص رضی ﷲ عنہ کی والدہ کہتی ہیں:
رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وسلم کی ولادت کے موقع پر میں وہاں موجود تھی تو جب آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی ولادت قریب ہوئی تو ستارے اتنے قریب ہوگئے کہ قریب تھا مجھ پر گر پڑتے اور بوقت ولادت ایسا نور نکلا جس نے کمرے اور گھر کو بھردیا،نور کے علاوہ کوئی چیز نظر آتی تھی۔
(المعجم الکبیر للطبرانی١٤٧/١)
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الله تعالٰی نے سب سے پہلے میرا نور بنایا اورمیرے نور سے تمام اشیاء کو پیدا فرمایا
(مطالع المسرات ص٢٦٥)
حضرت فخر الدین رازی فرماتے ہیں:
بے شک فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں اس کی وجہ یہ تھی کہ نور محمد صلی ﷲ علیہ وسلم ان کی پیشانی میں تھا۔
(تفسیرِ کبیر،سورہ بقرہ،آیت253 ،ج6،ص525)
حضرت علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو اپنے حبیب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا نور ان کی پشت میں رکھ دیا تو وہ نور ان کی پیشانی میں چمکتا تھا۔
(تفسیر روح البیان،سورہ توبہ ،آیت:128،ج3،ص543)
سیدنا ابوالحسن اشعری رحمہ ﷲ تعالی فرماتے ہیں:
الله تعالٰی نور ہے مگر انوار کی مثل نہیں اورنبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی روح اقدس الله تعالٰی کے نور کا جلوہ ہے اور ملائکہ ان انوار کی جھلک ہیں۔
(مطالع المسرات ص٢٦٥)
علامہ سیدی محمد زرقانی شرح مواہب شریف میں فرماتے ہیں:
حضور پر نور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ شمس وقمر کی روشنی میں نمودار نہ ہوتا تھا بقول ابن سبع آپ کی نورانیت کی وجہ سے۔اور کہا گیا ہے کہ عدم سایہ کی حکمت یہ ہے کہ کوئی کافر آپ کے سایہ پر پاؤں نہ رکھے۔
(شرح الزرقانی ٢٢٠/٤)
✍️تحریر: محمد ساجد مدنی
0 Comments