لوحِ محفوظ کے بارے میں عقائد و معلومات
لیکن یہ کیا ہے؟
کس چیز سے بنی ہے؟
کہاں ہے؟
اِس کی معلومات بہت کم لوگوں کو ہوتی ہیں۔
اِس مضمون میں لوحِ محفوظ کے بارے میں کچھ ضروری معلومات پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے
نام اور وجہ تسمیہ”لَوْح“ عربی زبان میں تختی کو کہتے ہیں، اسے لوحِ محفوظ، اُمّ الکتاب اور کتابِِ مَکْنون بھی کہا جاتا ہے،
شیاطین کی دَسْتْرَس (پہنچ) اور کمی بیشی سے پاک ہونے کی وجہ سے اِسے لوحِ محفوظ (محفوظ تختی) کا نام دیا گیا ہے.
(تفسیرِبغوی، ج4، ص440، پ30، البروج، تحت الآیۃ:22۔
تفسیرِبیضاوی، ج5 ،ص292، پ27، الواقعۃ، تحت الآیۃ:78)
عقیدہ
لوحِ محفوظ اور قلم پر ایمان رکھنا واجب و ضروری ہے،
جیساکہ امام ابو جعفر طَحاوی حنفی علیہِ رحمۃُ اللّٰه ِالْقَوی فرماتے ہیں: نُؤْمِنُ بِاللَّوحِ وَالْقَلَمِ، وَ بِجَمِيْعِ مَافِيْهِ قَدْرُقِمَ
یعنی ہم لوح اور قلم اور ان تمام امور پر ایمان لاتے ہیں جو اس لوح میں لکھ دئیے گئے ہیں. (شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ص263)
لوحِ محفوظ کہاں اور کتنی بڑی ہے؟
لوحِ محفوظ عرش کی دائیں (سیدھی) جانب ہے. (تفسیرِقرطبی، ج10، ص210، پ 30، البروج، تحت الآیۃ:22)
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰه تعالیٰ عَنْہُما نے فرمایا:
اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے لوحِ محفوظ کو پیدا فرمایا، اس کی لمبائی ایک سو سال کی مَسافت (فاصلہ، دُوری) تھی
(العظمۃ لابی الشیخ، ص86، رقم:223)
لوحِ محفوظ عرش کی دائیں (سیدھی) جانب ہے. (تفسیرِقرطبی، ج10، ص210، پ 30، البروج، تحت الآیۃ:22)
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰه تعالیٰ عَنْہُما نے فرمایا:
اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے لوحِ محفوظ کو پیدا فرمایا، اس کی لمبائی ایک سو سال کی مَسافت (فاصلہ، دُوری) تھی
(العظمۃ لابی الشیخ، ص86، رقم:223)
تفسیرِ ابنِ کثیر میں ہے کہ لوحِ محفوظ کی چوڑائی مشرق و مغرب کے فاصلے کے برابر ہے۔ (ابن کثیر، ج8، ص367، پ30، البروج، تحت الایۃ:22)
لوحِ محفوظ کس چیز سے بنی ہے؟
لوح و قلم ان اشیا ءمیں سے ہیں جن کی حقیقی کیفیت اللّٰه عَزَّوَجَلَّ اور اس کے بتائے سے سرکارِ دوعالم صلَّی اللّٰهُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم ہی جانتے ہیں، البتہ احادیث میں کچھ کیفیات کا بیان ملتا ہے۔
سرکارِ دوعالم صلَّی اللّٰهُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
لوحِ محفوظ سفید موتی سے بنی ہے، اس کے صفحات سرخ یاقوت کے ہیں، اس کا قلم نور اور کتابت (لکھائی) بھی نور ہے۔ (حلیۃالاولیاء، ج4، ص338)
لوحِ محفوظ پر کیا لکھا ہے؟
لوحِ محفوظ کے بارے میں اللّٰه عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے:
(بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ (۲۱) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ (۲۲))
ترجمۂ کنزالایمان :
بلکہ وہ کمال شَرَف والا قراٰن ہے لَوحِ مَحفوظ میں.(پ30، البروج:22،21)
تفسیرِقرطبی میں اسی آیت کریمہ کی تفسیر میں ہے کہ عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰه ُالسَّلام لکھتے ہیں:
لوحِ محفوظ میں مخلوق کی تمام اَقسام اور ان کے مُتَعلِّق تمام اُمور مَثَلًا موت، رِزْق، اَعمال اور اس کے نتائج اور ان پر نافِذ ہونے والے فیصلوں کا بیان لکھا ہے۔(تفسیرِقرطبی، ج10، ص210، پ30، البروج، تحت الآیۃ:22)
لوحِ محفوظ میں جو کچھ لکھا ہے، اسے قضا و تقدیر بھی کہتے ہیں۔
✍🏻عبدِ مُصطفیٰ
محمد ذاکِر حسین قادری منظوری
0 Comments