Ad Code

Responsive Advertisement

نماز کی اہمیت اور ہماری کوتاہی

 نماز کی اہمیت اور ہماری کوتاہی


اللہ تعالی نے جب دنیا بنائی نظام کائنات کو وجود بخشا تو ہر شے کو ایک مقام و مرتبہ دیا ہر کسی کو رہنے کی الگ الگ جگہ دی اور ہر کسی کے ذمہ کوئی نہ کوئی کام مقرر فرمایا۔ رب کائنات کے پیدا کردہ اشیاء میں سے ایک انسان بھی ہے جسے اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا اور اسے اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر دنیا میں بھیجا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیوں پیدا فرمایا ارشاد باری تعالی ہے: وماخلقت الجن والانس الالیعبدون
ترجمہ میں نے انسان اور جنات کو صرف عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔
اور پھر پروردگار عالم نے اس اشرف المخلوقات کو عبادت کرنے کے سلیقے بھی سکھائے اور ان پر عبادت کرنا فرض فرمایا۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اپنی قوم کی رہنمائی فرمائی اور انہیں نماز کی اہمیت و فضیلت اور اس کے چھوڑنے کی ممانعت سنائی اور اللہ سے اپنے اور اپنی اولاد کے نماز پڑھتے رہنے کی دعا فرمائی۔
یہ اور بات ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی پر پانچوں وقت کی نماز مقرر نہ کی گئی تھی مگر وہ کسی نہ کسی وقت کی نماز ضرور پڑھتے تھے امام حلبی امام شافعی کی شرح مسند شافعی کے حوالے سے لکھتے ہیں حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے صبح کی نماز پڑھی حضرت داؤد علیہ السلام نے ظہر کی نماز پڑھی حضرت سلیمان علیہ السلام نے عصر کی نماز پڑھی حضرت یعقوب علیہ السلام نے مغرب کی نماز پڑھی اور حضرت یونس علیہ السلام نے عشاء کی نماز پڑھی۔
پھر یہ پانچ وقت کی نمازوں کا اعجاز سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی امت کے نصیب میں آیا اور اللہ تعالی نے اسے ہم پر فرض فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے: ان الصلاۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا۔
ترجمہ: بے شک نماز وقت مقررہ پر مومنوں پر فرض ہے۔
پھر نماز چھوڑنے والوں پر وعید بھی بیان فرمایا ارشاد ہے
واقیموا الصلاۃ ولا تکونوا من المشرکین
دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے
ما سلککم فی سقر0 قالوا لم نک من المصلین

اور اس ضمن میں کثیر احادیث بھی موجود ہیں مگر ہم نے ان تمام اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔۔ آج ہمیں نہ اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں کس لیے دنیا میں بھیجا اور نہ اس پر کبھی توجہ ہوتی ہے کہ ہم پر کیا فرض کیا گیا۔ یہ کہتے ہوئے مجھے حیرانی بھی ہو رہی ہے اور افسوس بھی کے آج ایک فیصد مسلمان بھی نماز نہیں پڑھتے ہیں اور اس پر مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ علماء اور طلاب بھی اس میں شریک ہیں۔۔۔
مساجد سے حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح اور الصلاۃخیرمن النوم کی صدائیں آتی ہیں یہی پر بس نہیں بلکہ اب تو لاؤڈاسپیکر (فون الارم) ہمارے پاس ہوتاہے جو ہمیں انفرادی طور پر جگا بھی سکتا ہے مگر پھر بھی ہماری نیند نہیں ٹوٹتی یہ کیسی نیند ہے یہ کیسی غفلت ہے جو ہمیں نماز جیسا اہم فرض سے دور رکھتی ہے۔
کیا یہی ہمارے دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد ہے خیر دنیا داروں کے لئے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر افسوس تو طلباے کرام اور پر ہوتاہے کہ ہم اسی مقصد کے لیے نکلے اور اسی سے غافل ہیں ہم وہ راہ خدا کے مجاہد ہیں جنہیں مہمان رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہا گیا جن کے قدموں کے نیچے فرشتے پر بچھا تے ہیں اور حالت یہ ہے کہ کبھی مسجد جانے کی توفیق نہیں ہوتی۔۔

حدیث پاک میں ہر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقوں پر فجر اور عشاء کی نمازوں سے زیادہ بھاری کوئی نماز نہیں اگر وہ جانتے کہ ان میں کیا فضیلت ہے تو وہ نماز کے لئے گھٹنوں کے بل چل کر نماز کےلیے حاضر ہوتے۔۔ میرے دل میں خیال آیا کہ میں مؤذن کو حکم دو کہ اقامت کہے پھر کسی شخص کو حکم دو کے وہ امامت کرے پھر آگ کے شعلے کر ان (کے گھروں) کو جلا دوں جو (بغیر کسی عزر شرح کے) نماز (باجماعت) کے لیے ابھی تک نہیں نکلے۔۔ اللہ اکبر یہ کیسی سزا ہے یہ کیسی وعید ہے۔

افسوس کے ساتھ یہ جملہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر ہمارے قبیلے میں دو ہزار لوگ ہیں تو فجر کی نماز کے لیے تکبیر اولی کے وقت صرف اور صرف دس لوگ نظر آتے ہیں۔۔
میرے محترم ہمیں اپنے وجود کا اصل مقصد جاننا چاہیے ہم پر جو فرض کیا گیا ہے اس کی عمل درآمد میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔۔۔۔ اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

عبد مذنب تحمید برکاتی

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement