Ad Code

Responsive Advertisement

سیدنا صدیق اکبر کی فضیلت شیعہ کتب سے

 سیدنا صدیق اکبر کی فضیلت شیعہ کتب سے


از قلم: علامہ علی حسن سیالوی

مشہورومعروف شیعہ محدث أبو جعفر محمد بن علی بن بابويه القمی المعروف بالشيخ الصدوق
(المتوفی: ۳۸۱ھ) اپنی کتاب ’’عيون أخبار الرضا‘‘ میں روایت نقل کرتے ہیں کہ:

’’فَإِنَّ عَلِيّاً (ع) قَالَ مَنْ فَضَّلَنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي‘‘۔
’’حضرت علی علیہم السلام نے فرمایا: جس نے بھی مجھے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پرفضيلت دی تومیں اسے حد افتراء(جھوٹا بہتان لگانے والے کی سزا) لگاؤں گا‘‘۔
(عيون أخبار الرضا: ج۲، ص۲۰۲)

مشہورومعروف شیعہ عالم الشيخ علی بن محمد الخزاز الرازی القمی
(المتوفی: ۴۰۰ھ) اپنی کتاب ’’كفاية الأثر‘‘ میں روایت نقل کرتے ہیں کہ:

’’وتروون عن الواحد والاثنين كما حكت العامة عن أمير المؤمنين عليه السلام أنه قال "من سمعته يقدمني على أبي بكر وعمر جلدته حد المفتري"، "وخير الناس بعد نبيها أبو بكر وعمر"‘‘۔
’’امیرالمومنین حضرت علی علیہم السلام نے فرمایا: میں نے جس کسی سے بھی سناکہ اس نے مجھے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پرفضيلت دی تومیں اسے حد افتراء(جھوٹا بہتان لگانے والے کی سزا) لگاؤں گا۔ اورانبیاءؑ کے بعد لوگوں میں سب سے بہترابوبکروعمررضی اﷲعنہما ہیں‘‘۔
(كفاية الأثر: ص۴۲۹)

مشہورومعروف شیعہ عالم محمَّد بن النعمان بن عبد السَّلام الحارثی المذحجی العكبری المعروف الشیخ المفيد
(المتوفی: ۴۱۳ھ) اپنی کتاب ’’الفصول المختارة‘‘ میں یہی روایت نقل کرتے ہیں کہ:

’’فصل ومن حكايات الشيخ أدام الله عزه قال: سئل الفضل بن شاذان رحمه الله تعالى عما روته الناصبة عن أمير المؤمنين - عليه السلام - أَنَّهُ قَالَ: "لَا أوتى بِرَجُلِ يُفَضِّلُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : إلَّا جَلَدْته حَدَّ الْمُفْتَرِي"‘‘۔
’’امیرالمومنین حضرت علی علیہم السلام نے فرمایا: اگر میرے پاس ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے افضل قرار دیتا ہو تو میں اسے بہتان بازی کی سزا دوں گا‘‘
۔ (الفُصول المُختارة مِن العُيون والمحاسن: ص۱۶۷)

مشہورومعروف شیعہ محدث ومفسرإبو جعفر محمد بن الحسن بن علی بن الحسن الطوسی
(المتوفی: ۴۶۰ھ) اپنی مشہورکتاب ’’إختيار معرفة الرجال المعروف بہ رجال الكشی‘‘ میں روایت نقل کرتے ہیں کہ:

’’فقال له أبو عبد اللّه (عليه السلام): زدنا قال: حدثني سفيان الثوري، عن محمد بن المنكدر، أنه رأى عليا (عليه السلام) على منبر الكوفة و هو يقول: لئن اتيت برجل يفضلني على أبي بكر و عمر لأجلدنه حد المفتري۔ فقال أبوعبدالله (عليه السلام): زدنا فقال: حدثني سفيان، عن جعفر، أنه قال حب أبي بكر وعمر ايمان وبغضهما كفر‘‘۔
’’حضرت علی علیہم السلام نے کوفہ میں منبرپرفرمایا: جس نے بھی مجھے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پرفضيلت دی تومیں اسے حد افتراء(جھوٹا بہتان لگانے والے کی سزا) لگاؤں گا۔ پھرفرمایا: ابوبکروعمررضی اﷲعنہ سے محبت کرناایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا کفرعلامت ہے‘‘۔
(إختيار معرفة الرجال المعروف بہ رجال الكشی: ج۲، ماروی فی سفيان الثورى، ص۴۴۶)

معروف شیعہ عالم شيخ علی بن يونس العاملی النباطی البياضی
(المتوفی: ۸۷۷ھ) اپنی کتاب ’’الصراط المستقيم‘‘ میں یہی روایت ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ:

’’ومنها: قوله عليه السلام: لا أوتي برجل يفضلني على أبي بكر وعمر إلا جلدته حد المفتري‘‘۔
’’حضرت علی علیہم السلام نے فرمایا: مجھے ابوبکر و عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما پرفضيلت دینے والا جوبھی (گرفتار ہوکر) کر میرے پاس لایا گیا، تومیں اسے حد افتراء
(بہتان طرازی کی سزا) لگاؤں گا‘‘۔ (الصراط المستقيم: ج۳، ص۱۵۲)

اکبر دور کے مشہورو معروف شیعہ عالم قاضی نور اللہ شوشتری
(المتوفی: ۱۰۱۹ھ) اپنی کتاب ’’الصوارم المهرقة‘‘ میں یہی روایت ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ:

’’عن علي عليه السلام أيضا من أنه "لَا أجد أَحَدٌ فَضِّلُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي" وما رواه في الفصل الثاني الآتي عن علي عليه السلام أيضا حيث قال "إنه لَا يُفَضِّلُنِي أَحَدٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي"‘‘۔
’’حضرت علی علیہم السلام نےفرمایا: جس نے بھی مجھے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پرفضيلت دی تومیں اسے حد افتراء(جھوٹا بہتان لگانے والے کی سزا) لگاؤں گا‘‘
۔ (الصوارم المهرقة: ص۲۷۷، ۲۹۲، ۳۲۳)

شیخ محمد باقرالمجلسی(المتوفی: ۱۱۱۰ھ) جنہیں اہل تشیع حضرات کے ہاں علم حدیث میں بلندمقام ومرتبہ حاصل ہے، وہ اپنی کتاب ’’بحار الأنوار‘‘ میں یہ روایت ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ:

’’عن أمير المؤمنين (عليه السلام) أنه قال: "لَا يُفَضِّلُنِي أَحَدٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي"‘‘۔
’’امیرالمومنین حضرت علی علیہم السلام نےفرمایا: جس نے بھی مجھے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پرفضيلت دی تومیں اسے حد افتراء(جھوٹا بہتان لگانے والے کی سزا) لگاؤں گا‘
‘۔ (بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الائمة الأطهار الشيخ محمد باقر المجلسی: ج۱۰، ص۴۶۵)

السيد أبو القاسم الخوئی (المتوفی:۱۴۱۳ھ) اپنی کتاب ’’معجم رجال الحديث‘‘ میں یہ روایت ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ:

’’لكن في الفصول المختارة للسيد المرتضى الصفحة (۱۱۳) من الطبعة الثانية، ومن حكايات الشيخ (المفيد) - دام عزه - قال: سئل الفضل بن شاذان عما روته الناصبة عن أمير المؤمنين عليه السلام أنه قال: لا أوتي برجل يفضلني على أبي بكر وعمر إلا جلدته جلد المفتري‘‘۔ 
’’امیرالمومنین حضرت علی علیہم السلام نے فرمایا: اگر میرے پاس ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے افضل قرار دیتا ہو تو میں اسے بہتان بازی کی سزا دوں گا‘‘
۔ (معجم رجال الحديث: ج۹، ص۳۴۱)

شیعہ عالم قاضی نور اللہ شوشتری اپنی اسی کتاب میں امام جعفرصادقؒ کاقول نقل کرتے ہیں کہ:

’’أنه سأل رجل من المخالفين عن مولانا جعفر الصادق عليه السلام وقال: يا بن رسول الله صلى الله عليه وآله ما تقول في أبي بكر وعمر؟ فقال عليه السلام: هما إمامان عادلان قاسطان كانا على الحق وماتا عليه فرحمة الله عليهما يوم القيامة‘‘۔
’’مخالف گروہ کے ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے خلافت صدیق وعمر رضی اللہ عنہما کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ "وہ دونوں امام عادل تھے، مصنف تھے، حق پر تھے اور حق پر انہوں نے وفات پائی، ان دونوں پر قیامت تک اللہ کی رحمت نازل ہو"‘‘۔
(الصوارم المهرقة: ص ۱۵۵؛ إحقاق الحق للشوشتری: ج۱، ص۴۴)

شیعہ محدّث ومورّخ بہاءالدین علی بن عیسیٰ اربلی اپنی اسی کتاب میں روایت نقل کرتے ہیں کہ:

’’عليّ بن الحسين بن عليّ، فقد روي عنه أنّه جاء إليه نفر من العراق، فقالوا في أبي بكر وعمر وعثمان (رضي الله عنهم)، فلمّا فرغوا من كلامهم قال لهم: ألا تخبروني أنتم: المُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخرِجُوا مِن دِيَارِهِم وَأَموَالِهِم يَبتَغُونَ فَضلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضوَاناً وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ؟ [سورۃ الحشر:۸] قالوا: لا، قال: فأنتم: وَالَّذِينَ تَبَوَّأُوا الدَّارَ وَالأِيمَانَ مِن قَبلِهِم يُحِبُّونَ مَن هَاجَرَ إِلَيهِم وَلا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِم حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِم وَلَو كَانَ بِهِم خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ المُفلِحُونَ؟ [سورۃ الحشر:۹] قالوا: لا، قال: أمّا أنتم قد تبرّأتم أن تكونوا من أحد هذين الفريقين، وأنا أشهد أنّكم لستم من الذين قال الله فيهم: يَقُولُونَ رَبَّنَا اغفِر لَنَا وَلإِخوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالأِيمَانِ وَلا تَجعَل فِي قُلُوبِنَا غِلاًّ لِلَّذِينَ آمَنُوا۔ [سورۃ الحشر:۱۰]، أخرجوا عنّي فعل الله بكم‘‘۔

’’عراق سے کچھ لوگ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہوں نے حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی شان میں نازیبا باتیں کیں۔ جب وہ اپنی گفتگو سے فارغ ہوئے تو حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ کیا تم اولین مہاجرین میں سے ہو جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ان مہاجر فقراء کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنی جائیدادوں سے نکالے گئے ہیں وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا ڈھونڈتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں؟ [سورۃالحشر: ۸]، وہ عراقی کہنے لگے نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا تو تم ان لوگوں میں شامل ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور ان کے لیے جنہوں نے (مدینہ کو) گھر بنا لیا تھا اور ان (مہاجرین) سے پہلے ایمان لا چکے تھے، وہ (انصار) ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کرے اور وہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دیا جائے اور اپنی ذات پر (ان کو) ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انہیں سخت ضرورت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں؟ [سورۃالحشر: ۹]، عراقی گروہ نے جواب دیا: نہیں۔ ہم ان میں بھی شامل نہیں۔ تو حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے فرمایا خبردار! تم نے ان دو گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار خود ہی کر دیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں بھی شامل نہیں ہو جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ان کے لیے ہے جو ان (مہاجرین و انصار) کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنہوں نے ایمان میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بہت نرمی والا، نہایت رحم والا ہے۔[سورۃالحشر: ۱۰]، اے عراقیوں! میرے پاس سے چلے جائو، اللہ تمہیں برباد کرے‘‘۔
(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ: ج۳، ص۱۵-۱۶، ترجمہ الإمام السجادؑ؛ الصوارم المهرقة: ص ۲۴۹-۲۵۰، نمبر۸۳)

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement